Laaga Chunri Main Daagh by Arif Waqqaar – BBC URDU

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے

پاکستان کے شہر لاہور میں واقع تاریخی بازار حسن وہ بازار ہے جہاں پچاس کی دہائی میں قانونی طور پر ناچ گانے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن ملک میں دہشت گردی کی لہر سے یہ ثقافتی مظہر بھی ویران ہوگیا ہے۔ راتوں کو جگمانے والے بازارِ حسن میں خاموشی کا راج ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لاہور کا بازارِ حسن شہر کا کلچرل حوالہ تھا جودہشت کی گرد میں دھندلا گیا ہے۔

عارف وقار

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

علامہ اقبال نے ابلیس کی جراتِ انکار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے جبرئیل کے مقابل لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ نیکی اور بھلائی کے مجسمے جبرئیل کو للکارتے ہوئے کہتا ہے:

دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خیروشر

کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے ،میں کہ تو؟

انسانی معاشرے کے سمندر میں بھی جہاں عورت کبھی ماں کبھی بہن کبھی بیٹی اور کبھی بیوی کے معزز کردار میں ساحل کے پرسکون ماحول میں زندگی گزارتی دکھائی دیتی ہے، وہیں سمندر کی پرشور اورتندوتیز لہروں کی زد میں عورت کا ایک اور روپ زندگی سے نبرد آزما نظر آتا ہے۔وہ ایک طوفان سے نمٹتی ہے تو دوسرا طوفان اس کا منتظر دکھائی دیتا ہے،ایک بھنور سے نکلتی ہے تو دوسرا بھنور اسے گھیر لیتا ہے۔

ایسے ہی حالات شاعر کی زبان سے لفظ بن کر یوں نکلتے ہیں

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے

موت سے کھیلتی ہوئی اس زندگی کو طوائف کا نام دیا جاتا ہے اور معاشرہ اسے کسی بھی نگاہ سے دیکھے، شاعر اور ادیب نے ہمیشہ اسے ہمدردی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔قدیم یونان، چین، یورپ، مصراور ہندوستان سے ہوتا ہوا یہ کردار جب جدید اردو ادب تک پہنچتا ہے تو مرزا ہادی رسوا کی امراؤجان ادا، غلام عباس کی آنندی اور منٹو کی ہتک کا روپ دھار لیتا ہے۔

اٹھارھویں اور انیسویں صدی کی اردو غزل میں عشوے اور غمزے دکھانے کے بعد نازو ادا کی یہ لہراتی بل کھاتی ُپتلی بالا خانے کے پردے چاک کرکے بیچ بازار آن کھڑی ہوتی ہے اور ساحر لدھیانوی کی زبان میں چِلا چِلا کر کہتی ہے :

ثناخوانِ تقدیسِ مشرق کو لاؤ

یہ گلیاں یہ کوچے یہ منظر دکھاؤ

اکیسویں صدی کے’ شاعرو صورت گر و افسانہ نگار‘ کے لیے طوائف نہ تو دل بہلانے کا کوئی کھلونا ہے اور نہ کوئی ملعون و مطعون کردار۔

’لاگا چنری میں داغ‘ کی ایسکورٹ گرل ہو یا اقبال حسین کے کینوس پر نقش ایک بازاری عورت۔۔۔

آج کا فن کار اسے نفرت سے مسترد نہیں کرسکتا۔وہ جانتا ہے کہ اس عورت کو بازار میں کون لایا ہے، اور یہ بھی کہ اس کی کھوئی ہوئی نسوانیت اسے کیسے واپس ملے گی۔

Advertisements

Leave a comment

Filed under Gender and Human Rights, Religion and Politics, Women, Women Gender and Human Rights

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s